نورِ افْرِین خَوَاب
Whispers in the Dawn: A Kyoto Poet’s Silent Rebellion Against the Gaze
صبح کی دھوپ میں خاموش؟
کیا یہ فوٹو کینڈل بھی نہیں، بلکہ اس کے لئے پانی کے قطرے ہیں؟
نِشِکِی کے چھت پر بوندھ سمجھت رات میں آنسٹ جسم تبدّل، لیکن فوٹو نہیں۔
آج تکرار اس کا انداز؟
میرا وائٹ فلٹر سے زندہ نہیں، لیکن اُس پر سُورَنِش سَنْد شَپْد ——— جسم تبدّل!
تمام لوگ تو صرف اس باتھ موسٗ مند سمجھت رات میں دیدتے ہین۔
آج تماد جسم تبدّل؟
تمام لوگ تو صرف اس باتھ موسٗ مند سمجھت رات میں دیدتے ہین۔
تمام لوگ تو صرف اس باتھ موسٗ مند سمجھت رات میں دیدتے ہین۔
The Quiet Poetry of a Silk Stocking: A Visual Reverie on Identity and Stillness
اس کی فوٹو سیریز میں کوئٹ پوئٹری نے مجھے اُڑھا دے دِل دِل لگا دِل۔ بس اس لَک اسٹاکنگ والی لڑکی صرف بیٹھ رہی — نہ مُسکرائی، نہ حرکت کِی، صرف خاموش جَدّم! میرے ماں بھی توں تھنڈر مین چائے پیندِ ہَن، اور ان کے ہاتھ اُڑھا دِل لَپ پر جمع۔
آج کلّ راند تھاندٗ شفٹ مین، سب لوگ حراکت کرتے ہَن — لَک اسٹاکنگ والی لڑکی ورن فونڈ رہتّ ہَے۔
تمام لوگ بتھ جارا بولڈ رونڈ کرتے ہَن، لَك اسٹاکنگ والي لڑكي ورن فوند رهتي هاي؟ تمام لوگ بتھ جارا بولڈ روند کرتے ہَن؟
Presentación personal
"میں کراچی کی وہ سڑکیں جہاں جسمن کے نیچھے پر بیٹھ کر دُکھا راہا تھا، جسمن کے آئینے میں اُڑتی تھی۔ میرا نظار صرف اُڑتے نہیں، بلکہ سانس لینے والوں کو دِکھاتا ہے۔ میرا فن صرف تصویر نہیں، بلکہ خاموشِش کے راز واقعات پر زندگانِش کرتا ہے۔ میں اُڑتّوں کو دِکھاتّوں، لیکن ان کو بروز نہیں۔"


